حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے صوبہ گیلان میں نمائندہ ولی فقیہ حجت الاسلام والمسلمین فلاحتی نے یونیورسٹی آزاد اسلامی کے صوبائی سربراہ اور سما اسکولز کے مدیران سے ملاقات میں یونیورسٹیوں اور اسکولوں کو دشمن کی سافٹ وار اور شناختی یلغار کے مقابلے میں اہم محاذ قرار دیا اور نوجوان نسل کی دینی و اخلاقی تربیت پر زور دیا۔
انہوں نے علمی مراکز کو غیر فعال کرنے اور معاشرے میں جمود پیدا کرنے کی دشمن کی کوششوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: یونیورسٹیاں اور اسکول شناختی جنگ کے مقابلے میں بنیادی محاذ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے تعلیمی اداروں کے ذمہ داران پر زور دیا کہ وہ دشمن کی ان سازشوں کے مقابلے میں ہوشیاری اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔
حجت الاسلام والمسلمین فلاحتی نے نوجوان نسل کی ترقی اور پیشرفت کے لیے چار بنیادی عوامل بیان کرتے ہوئے کہا: خدا اور توحید پر ایمان، روحانی نشاط، تخلیقی فکر و جدت اور قوتِ ارادی۔ ان کے مطابق، مصنوعی ذہانت جیسی جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے نوجوانوں میں تحقیق، جدت اور نئے نظریات پیش کرنے کی صلاحیت کو فروغ دینا بھی ضروری ہے۔
نمائندہ ولی فقیہ گیلان نے ذہین اور باصلاحیت افراد کی بیرونِ ملک ہجرت یعنی برین ڈرین کے اسباب کا ذکر کرتے ہوئے شہرت، دولت اور شہوت کو بیرونِ ملک ہجرت کے عوامل میں سے قرار دیا۔
انہوں نے کہا: نوجوانوں کو محض نصابی تعلیم فراہم کرنا کافی نہیں بلکہ ان کی اخلاقی تربیت اور شخصیت سازی پر بھی سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔ نوجوانوں کے ساتھ دوستانہ مکالمے کے ذریعے رابطہ برقرار رکھا جائے۔ نوجوانوں کی فکری و جذباتی ضروریات کو سمجھنا اور ان کی درست رہنمائی کرنا دشمن کی ثقافتی سازشوں کو ناکام بنانے کے مؤثر طریقوں میں شامل ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین فلاحتی نے مزید کہا: باصلاحیت نوجوانوں کی رہنمائی کرتے ہوئے انہیں حقیقی انسانی اور اسلامی اقدار سے آشنا کرنا ضروری ہے تاکہ وہ علمی ترقی کے ساتھ اخلاقی و دینی اعتبار سے بھی مضبوط شخصیت کے حامل بن سکیں۔










آپ کا تبصرہ